نئی دہلی،2/مئی(ایس او نیوز/ایجنسی)کورونا بحران کے بیچ دہلی میں آکسیجن کی کمی پر دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران دہلی کے بترا اسپتال میں 12مریضوں نے دم توڑیاتھا،اس کی شکایت ہائی کورٹ سے کی گئی جس پر کورٹ نے مرکزی حکومت کو سخت پھٹکارلگاتے ہوئے حکم دیاہے کہ ہرحال میں دہلی کو آج 490میٹرک ٹن آکسیجن ملنی چاہئے۔ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران دہلی کے بترا اسپتال سے بتایا جارہا تھا کہ ان کے پاس آکسیجن بہت زیادہ نہیں رہ گئی ہے، اس دوران میں بترا میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے 12 مریض دم توڑ گئے، جن میں ایک ڈاکٹر بھی ہیں۔تاہم آکسیجن کی سپلائی بھی اسی بترا اسپتال پہنچی، لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔
اسپتال کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاہے کہ ہمیں وقت پر آکسیجن نہیں ملا، دوپہر 12 بجے ہمارا آکسیجن ختم ہوگیا اور ہمیں ڈیڑھ بجے سپلائی ملی۔ہم نے زندگی کھو دی ہے، جس میں ہمارا اپنا ایک ڈاکٹر تھا۔سماعت کے دوران بترا اسپتال نے ہائی کورٹ کو بتایاہے کہ ہمارے پاس صرف ایک گھنٹہ آکسیجن باقی ہے۔ بترا اسپتال نے ہائی کورٹ کو بتایاہے کہ ہم ہر روز کچھ گھنٹے بحران میں گزار رہے ہیں، یہ چکر ختم نہیں ہورہا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کی لہر کے درمیان دہلی کے اسپتالوں میں بستر کی کمی پر ایک اہم اقدام اٹھایا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہاہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اسپتالوں اور نرسنگ ہومز میں بستر گھٹ رہا ہے۔ لہٰذامرکزی سرکاری اسپتال، دہلی کے سرکاری اسپتال، تمام نجی اسپتال اور نرسنگ ہوم یکم مئی سے روزانہ داخل ہونے والے کووڈ مریضوں کا ڈیٹا دیں گے۔ نیز اس وقت کے دوران، آپ روزانہ خارج ہونے والے مریضوں کے بارے میں بھی معلومات دیں گے۔ ان مریضوں کی بھی تفصیلات بتائیں گے جو دس دن سے زیادہ عرصہ سے اسپتال میں داخل ہیں۔ انہیں دیئے گئے بیڈز کی تفصیلات بتائیں گے۔ یہ رپورٹ 4 مئی تک دائر کرنی ہوگی۔
عدالت نے کہاہے کہ دہلی لیگل سروس اتھارٹی اور امیکس کیوریے راج شیکھر راؤتفصیلات پرغورکریں گے اور ہائی کورٹ میں رپورٹ درج کریں گے۔ ہائی کورٹ نے کہاہے کہ اعداد و شمار کو دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ہر دن مریضوں کی صحت کے بعد بستر خالی ہوجائیں، جو ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔